ALLAMA IQBAL POETRY, GHAZALS & SHAYARI

Allama Iqbal Poetry – Express your feeling with Pakistan’s largest collection of Allama Iqbal Poetry. Read, submit and share your favorite Allama Iqbal Shayari. Find 103 Allama Iqbal Poetry, Last Updated on Wednesday, January 03 2018. Allama Iqbal Poetry – Poet of the East, Allama Iqbal needs no introduction. He is the most celebrated poet, philosopher, barrister and scholar of all times. Allama Iqbal received the title of “Sir” from King George V in 1922. Apart from being the poet of the East, Allama Iqbal also enjoys the status of “Musawir e Pakistan”, “Hakeem-ul-Ummat” and “Mufakir e Pakistan”. He became the national .

                                             ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک

ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک

اگرچہ مغربیوں کا جنوں بھی تھا چالاک

مے یقیں سے ضمیر حیات ہے پرسوز

نصیب مدرسہ یا رب یہ آب آتش ناک

عروج آدم خاکی کے منتظر ہیں تمام

یہ کہکشاں یہ ستارے یہ نیلگوں افلاک

یہی زمانۂ حاضر کی کائنات ہے کیا

دماغ روشن و دل تیرہ و نگہ بیباک

تو بے بصر ہو تو یہ مانع نگاہ بھی ہے

وگرنہ آگ ہے مومن جہاں خس و خاشاک

زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل راہ

کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک

جہاں تمام ہے میراث مرد مومن کی

مرے کلام پہ حجت ہے نکتۂ لولاک

فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک
Poet: Allama Iqbal
By: Obaid, khi

 

فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک
رکھتی ہے مگر طاقت پرواز مری خاک

وہ خاک کہ ہے جس کا جنوں صیقل ادراک
وہ خاک کہ جبریل کی ہے جس سے قبا چاک

وہ خاک کہ پروائے نشیمن نہیں رکھتی
چنتی نہیں پہنائے چمن سے خس و خاشاک

اس خاک کو اللہ نے بخشے ہیں وہ آنسو
کرتی ہے چمک جن کی ستاروں کو عرق ناک

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
Poet: Allama Iqbal
By: iftikhar, khi

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق

علاج ضعف یقیں ان سے ہو نہیں سکتا
غریب اگرچہ ہیں رازیؔ کے نکتہ ہاے دقیق

مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب
خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق

اسی طلسم کہن میں اسیر ہے آدم
بغل میں اس کی ہیں اب تک بتان عہد عتیق

مرے لیے تو ہے اقرار بااللساں بھی بہت
ہزار شکر کہ ملا ہیں صاحب تصدیق

اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق

میر سپاہ ناسزا لشکریاں شکستہ صف
Poet: Allama Iqbal
By: ebtisam, khi

میر سپاہ ناسزا لشکریاں شکستہ صف
آہ وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف

تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف

عشق بتاں سے ہاتھ اٹھا اپنی خودی میں ڈوب جا
نقش و نگار دیر میں خون جگر نہ کر تلف

کھول کے کیا بیاں کروں سر مقام مرگ و عشق
عشق ہے مرگ باشرف مرگ حیات بے شرف

صحبت پیر روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سربجیب ایک کلیم سر بکف

مثل کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی
اب بھی درخت طور سے آتی ہے بانگ لاتخف

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

میر سپاہ ناسزا لشکریاں شکستہ صف
Poet: Allama Iqbal
By: ebtisam, khi

 

میر سپاہ ناسزا لشکریاں شکستہ صف
آہ وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف

تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف

عشق بتاں سے ہاتھ اٹھا اپنی خودی میں ڈوب جا
نقش و نگار دیر میں خون جگر نہ کر تلف

کھول کے کیا بیاں کروں سر مقام مرگ و عشق
عشق ہے مرگ باشرف مرگ حیات بے شرف

صحبت پیر روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سربجیب ایک کلیم سر بکف

مثل کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی
اب بھی درخت طور سے آتی ہے بانگ لاتخف

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

کھو نہ جا اس سحر و شام میں اے صاحب ہوش
Poet: Allama Iqbal
By: beenish, khi

 

کھو نہ جا اس سحر و شام میں اے صاحب ہوش
اک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے نہ دوش

کس کو معلوم ہے ہنگامۂ فردا کا مقام
مسجد و مکتب و مے خانہ ہیں مدت سے خموش

میں نے پایا ہے اسے اشک سحرگاہی میں
جس در ناب سے خالی ہے صدف کی آغوش

نئی تہذیب تکلف کے سوا کچھ بھی نہیں
چہرہ روشن ہو تو کیا حاجت گلگونہ فروش

صاحب ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہے
گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
Poet: Allama Iqbal
By: rehan, khi

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر

احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایسا
سوز و تب و تاب اول سوز و تب و تاب آخر

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر

مے خانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیں
لاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر

کیا دبدبۂ نادر کیا شوکت تیموری
ہو جاتے ہیں سب دفتر غرق مے ناب آخر

خلوت کی گھڑی گزری جلوت کی گھڑی آئی
چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوش سحاب آخر

تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا
کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر

یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن
Poet: Allama Iqbal
By: sharjeel, khi

یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن
کیوں خوار ہیں مردان صفا کیش و ہنر مند

گو اس کی خدائی میں مہاجن کا بھی ہے ہاتھ
دنیا تو سمجھتی ہے فرنگی کو خداوند

تو برگ گیا ہے نہ وہی اہل خرد را
او کشت گل و لالہ بہ بخشد بہ خرے چند

حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گلگوں
مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و پند

احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پازند

فردوس جو تیرا ہے کسی نے نہیں دیکھا
افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند

مدت سے ہے آوارۂ افلاک مرا فکر
کر دے اسے اب چاند کے غاروں میں نظر بند

فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر ملکوتی
خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند

درویش خدا مست نہ شرقی ہے، نہ غربی
گھر میرا نہ دلی نہ صفاہاں نہ سمرقند

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلۂ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

مشکل ہے اک بندۂ حق بین و حق اندیش
خاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوند

ہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموش
میں بندۂ مومن ہوں نہیں دانۂ اسپند

پرسوز نظر باز و نکوبین و کم آرزو
آزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسند

ہر حال میں میرا دل بے قید ہے خرم
کیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوق شکرخند

چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبالؔ
کرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا منہ بند

Allama Iqbal Poetry – Poet of the East, Allama Iqbal needs no introduction. He is the most celebrated poet, philosopher, barrister and scholar of all times. Allama Iqbal received the title of “Sir” from King George V in 1922. Apart from being the poet of the East, Allama Iqbal also enjoys the status of “Musawir e Pakistan”, “Hakeem-ul-Ummat” and “Mufakir e Pakistan”. He became the national poet of Pakistan after independence. His popular creation “Sare Jahan se Acha” became the national song of India. The birth anniversary of Allama Iqbal is celebrated as the national holiday in Pakistan.

Regarded as the spiritual father of Pakistan, Allama Iqbal possesses prominent place in the Urdu poetry and literature. Allama Iqbal poetry collections reveal his wisdom and intellectualism that had motivated the Muslims of India for the struggle for freedom. Allama Iqbal Shayari has been narrated in Urdu and Persian languages. Allama Iqbal Shayari in Urdu has been highly motivating and interesting for the readers in Indo-Pak. Allama Iqbal poems in Urdu is highly inspiring that ignited the love of freedom among Muslims of India. He was the first person who invoked the philosophy of Pakistan in front of sub-continent Muslims through its Urdu poetry. His first poetry book, Asrar-e-Khudi, appeared in the Persian language in 1915, and other books of poetry include Rumuz-i-Bekhudi, Payam-i-Mashriq, and Zabur-i-Ajam. Amongst these, his best known Urdu works are Bang-i-Dara, Bal-i-Jibril, Zarb-i Kalim and a part of Armughan-e-Hijaz. Allama Iqbal Ghazal collection include Har Ek Maqaam Se Aage Guzar Gaya Maah e Nau, Har Shai Musaafir Har Cheez Raahi, and Sitaaron Se Aage Jahaan Aur Bhi Hain to name a few.

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here